ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مہاراشٹر میں شراب پر مکمل پابندی کے امکان سے منگنٹیوار نےکیاانکار

مہاراشٹر میں شراب پر مکمل پابندی کے امکان سے منگنٹیوار نےکیاانکار

Mon, 01 Aug 2016 21:32:50    S.O. News Service

ممبئی، یکم اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )مہاراشٹر میں شراب بندی کے سماجی کارکن انا ہزارے کے مطالبہ کے بعد مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں شراب پر مکمل پابندی لگانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں وہ تمل ناڈو کے راستے پر چلتے ہوئے دیسی شراب کی فروخت پر پابندی لگا سکتی ہے۔مہاراشٹر کے وزیر خزانہ سدھیر منگنٹیوار نے کہا ہے کہ شراب کی فروخت سے 13000کروڑ روپے کا ریونیو حاصل ہوتا اور حکومت ریاست کے کسی بھی حصے میں اس پر پابندی لگانے پر غور نہیں کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ کسی مخصوص ضلع سے شراب بندی کا مطالبہ اٹھتا ہے تو ہم اس پر غور کریں گے لیکن فی الحال مکمل پابندی لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔منگنٹیوار نے کہا کہ اس معاملے پر کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے آبکاری ریونیو ، چینی صنعت کی معاشی حالت ، شراب کے استعمال کی وجہ سے پیش آنے والے صحت سے متعلق مسائل اور غیر سرکاری تنظیموں اور ہزارے جیسے کارکنوں کی جانب سے دباؤ جیسے کئی پہلوؤں پر غور کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ شراب کی فروخت سے ہر سال ہمیں تقریباََ13000کروڑکاریونیوحاصل ہوتا ہے ۔حکام کی تجویز ہے کہ اگر ہم تمل ناڈو کی طرز پر دیسی شراب پر پابندی لگاتے ہیں تو اس سے ریونیو میں اضافہ ہوسکتا ہے۔تمل ناڈو نے دیسی شراب پر پابندی لگا دی ہے اور اس کی جگہ ریاست میں غیر ملکی برانڈ کی سستی شراب دستیاب کروائی جا رہی ہے۔وزیرخزانہ نے بتایا کہ شراب کی تمام دکانیں سرکاری ہیں اور ان سے کل23000کروڑ روپے کاریونیوحاصل آتاہے ۔قابل ذکرہے کہ ہزارے نے حال ہی میں وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس سے ملاقات کرکے مہاراشٹرمیں شراب بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں خط سونپا تھا، انہوں نے احمد نگر کے کوپارڈی میں نابالغہ کے ساتھ ہوئی وحشیانہ عصمت دری کے واقعہ کا سبب شراب کو بتایا تھا۔
 


Share: